بدھ, مئی 22, 2024
spot_img
ہومبلاگاصلاح احوال کا وقت گزر چکا

اصلاح احوال کا وقت گزر چکا

خالد ولید سیفی

حالات اب اس نہج پر ہیں کہ کوئی چاھے بھی انہیں کنٹرول نہیں کرسکتا ہے ، اصلاح احوال کا وقت گزر چکا ہے بلکہ ہاتھ سے نکل گیا ہے ، ایک بھونچال ، ایک طوفان ایک بہت بڑی افراتفری ہمارا منتظر ہے ۔

بطور سیاسی ورکر گزشتہ 35 سالہ سیاسی زندگی میں کبھی بھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹا ، یہ پہلی بار ہے ، کہ مکمل یاس ہے ، مکمل بے بسی ہے ، مکمل نا امیدی ہے۔
اصلاح احوال کے لیے جو کوششیں بھی دیکھتا ہوں سب ڈرامے کے سوا کچھ نہیں لگتے ہیں۔

کرنے کا وقت گزر چکا ہے ، اب تو ہونے کا وقت ہوا چاہتا ہے ، سب کچھ وقت نے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے ، یہ خود وقت نے طے کرنا ہے کہ ، طوفان کی شدت کتنی ہوگی ، بھونچال کس طاقت سے آئے گا ، افراتفری کی نوعیت کیا ہوگی ، میرے اور آپ کے ہاتھ میں کچھ نہیں رہا ، ہمارے پاس صرف انتظار رہ گیا ہے ۔

وقت نے ہمیں کافی وقت دیا ، ہم نے مل کر وقت کے ساتھ کھیلا ، اب وقت ہمارے ساتھ کھیلے گا ، جب ہم نے وقت کے ساتھ کھیلا تو قانون ، قاعدے اور ضابطے ہمارے تھے ۔ اب سارے قانون قاعدے اور ضابطے وقت خود بنائے گا ، ہم بس تماشائی ہوں گے ۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین