اتوار, مئی 26, 2024
spot_img
ہومپاکستاناسلام آباد: مسلح جتھوں کو قتل عام کا لائسنس دے دیدیا گیا،...

اسلام آباد: مسلح جتھوں کو قتل عام کا لائسنس دے دیدیا گیا، لاپتہ افراد پر بنائے گئے کمیشن اور کمیٹیوں نے کچھ نہیں کیا۔ سردار اختر مینگل

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر جان مینگل نے آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد کےساتھ دھرنا ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان نہیں بلکہ پورے پاکستان میں جبری گمشدگیاں جاری ہیں، ہزاروں افراد لاپتہ ہیں، یہ حکومت کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ مسنگ پرسنز جو اس ملک کے شہری ہیں چاہیے کہ وہ کسی جرم میں ملوث ہیں یا نہیں ہیں انکو عدالتوں میں پیش کیا جاتا اور قانون کے مطابق ان کے خلاف کیسز بنائے جاتے۔ ان خیالات کا اظہار سردار اختر جان مینگل نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاجی دھرنے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت اور بعدازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماء سینیٹر رضا ربانی ،آمنہ جنجوعہ ،نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ محسن داوڑ، افراسیاب خان خٹک و دیگر نے دھرنے کے شرکا سے یکجہتی کی۔

سرداراخترجان مینگل نے اظہار یکجہتی کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بد قسمتی رہی ہے کہ جو منتخب حکومتیں آئی ہیں انہوں نے بھی اس حوالے سے کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں اٹھایا ہے یہاں تک کہ بل پیش کیے وہ بھی مسنگ اور کمیشن بنائے گئے اس کمیشن کی رپورٹ مسنگ ہے جو کمیٹیاں بنائی گئی ان کمیٹیوں نے کوئی کام نہیں کیا ہے آج کا احتجاج کرنے کا مقصد ہمارا یہی ہے کہ ہم احتجاج کررہے ہیں حکومت کو دکھانے کیلئے کہ ہم مسنگ پرسن کا مسئلہ نہ کہ صرف صوبہ کا ہے اور نہ کہ صرف ملک کا ہے یہ ایک انسانیت کا مسئلہ ہے اس مسئلے کو جتنا جلدی ہوسکے حل کریں اور ان جتھوں جن کو قتل کرنے لائسنس دیا ہے جن کو حکومت کی سرپرستی میں آرگنائز کیا ہے کہ لوگوں کو اٹھائے اور بھتہ وصول کریں اور یہاں تک یہ اجازت دی گئی ہے کہ کسی کو مارے بھی ان کے خلاف ایف آئی آر نہیں کٹتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم جب مسنگ پرسن کی بات کرتے تھے تو ہم پر وہ سیاسی پارٹیاں تنقید کرتے تھے آج ان سیاسی جماعتوں اور صحافیوں پر بات آئی ہے آپ کہتے ہیں کہ ہمارے لوگ بھی مسنگ ہورہے ہیں، بلوچستان میں 20 سالوں سے جبری گمشدگیاں جاری ہیں ان کی شنوائی اس لیے نہیں ہورہی ہے کہ بلوچستان کو لاوارث سمجھا گیا ہے اور لاوارث لوگوں کے حوالے سے نشتر ہسپتال کے چھت سے جو لاشیں ملی ہیں جن کو لاوارث کہلا کر دفنا دیا گیا ہے، جو پورے کہ پورے بلوچستان کو انہوں نے لاوارث سمجھا ہے، مسنگ پرسن کا منتخب حکومتوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا ہے ہم نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کیے ان کی طرف سے کوئی شنوائی نہیں آئی ہے، مجھے نہیں لگتا ہے کہ نگران حکومت مسنگ پرسن کے حوالے سے کوئی ایکشن لے گی ہم اس احتجاج کو اپنا فرض اور قرض سمجھتے ہیں جو ادا کر رہے ہیں، نگران وفاقی حکومت کو مسنگ پرسن کی درد کے بدلے میں سرکاری مٹھائیاں ملتی ہیں جو درد کا اثر ختم ہوجاتا ہے۔

سرداراخترمینگل نے کہاکہ سینیٹر مشاہد حسین نے جس طرح کہا ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعتوں کو آگے بڑھ کر آنا چاہیے تھا ہم تیار ہیں آل پارٹیز کانفرنس کیلئے بلکہ ہم آل پارٹیز کانفرنس بلائینگے تمام سیاسی جماعتوں چاہے جو حکومت میں ہو اپوزیشن میں ہو یا پھر جو جیل میں ہوں سب کو مدعو کرینگے کہ آنے والے دور میں ان اداروں کو پابند کیا جائے کہ لاپتہ افراد اس ملک کے شہری ہیں ان کےساتھ بھی ایسا رویہ اختیار کرے جس طرح غیرملکی ایجنٹوں کے ساتھ روا رکھا جاتاہے ،ہم یہ نہیں کہتے کہ انہیں بغیر تحقیق رہا کیا جائے بلکہ انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے، بے گناہ افراد کو چھوڑ دیا جائے تاکہ ان کے فیملی کے اراکین جس قرب سے گزر رہے ہیں وہ ختم ہوں۔ کمیشن کا کام رپورٹ دینا ہے بازیابی حکومت و اداروں کا کام ہے ،سنا ہے لاپتہ افراد کمیشن کو ایکسٹینشن دی گئی ہے جو کمیشن 10سال میں کچھ نہ کر سکی تو پھر اب کیا کرسکے گی۔

انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں ،پارلیمانی ممبران جنہوں نے یکجہتی کا اظہار کیا ان پر شکر گزار ہیں ،نواز شریف اور عمران خان کو لاپتہ افراد کی آہ کا تو نہیں پتہ لیکن جو اعتماد تھا اب وہ نہیں رہا۔ آئندہ کا لائحہ آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ہے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کیاجائے گا، چارٹر آف ڈیموکریسی اور چارٹر آف معیشت آیا اب چارٹر آف مسنگ پرسنز پر کم از کم عمل درآمد کیاجائے۔

سینیٹرمشاہد حسین سید نے کہاکہ لاپتہ افراد کامسئلہ پاکستان کامسئلہ ہے لاپتہ افراد کی گمشدگی قابل قبول نہیں ،آئین اور قانون کی پاسداری ،پارلیمنٹ کی بالادستی کی سب بات کرتے ہیں اور رول آف لاء کا سب سے بڑا ٹیسٹ لاپتہ افراد ہے ،پاکستان کو آگے بڑھنا ہے تو لاپتہ افراد کا مسئلہ حل ہونا چاہیئے ،آل پارٹیز کانفرنس بلائی جائیں جو بھی الیکشن جیتیں وہ پہلی فرصت میں لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرے اور پہلے 30 دن میں یہ مسئلہ حل کرے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین