اتوار, مئی 26, 2024
spot_img
ہومایشیااسلام آباد: سی پیک کے 10 سالہ تقریب، چینی نائب وزیراعظم کا...

اسلام آباد: سی پیک کے 10 سالہ تقریب، چینی نائب وزیراعظم کا دو روزہ دورہ پاکستان، نئے یاداشتوں پر دستخط

چین کے نائب وزیراعظم ہی لی فینگ دو روزہ دورہ پر پاکستان پہنچے، جنکا استقبال وفاقی وزراء نے کیا۔ وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر وزیراعظم میاں شہباز شریف نے انکا استقبال کیا اور کابینہ ارکان سے تعارف کروایا۔

چین کے نائب وزیراعظم ہی لی فینگ کی سربراہی میں چین کے اعلیٰ سطح کے وفد کے دورہ پاکستان کے موقع پر وزیراعظم ہاؤس میں دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی 6 دستاویزات اور یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔

وفاقی وزیربرائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال اور چین کے قومی کمیشن برائے اصلاحات و ترقی کے وائس چیئرمین سونگ لیان نے جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی آف سی پیک اور سی پیک فریم ورک میں سپیشل ایکسچینج آف میکنزم کے معاہدوں پر دستخط کیئے۔

سیکرٹری وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق ظفر حسن اور پاکستان میں چین کی ناظم الامور فانگ چن سوائے نے چین کو سرخ مرچ کی برآمدات سے متعلق دستاویز پر دستخط کئے۔

این ایچ اے کے ممبر پلاننگ احسن امین اور پاکستان میں چین کی ناظم الامور فانگ چن سوائے نے قراقرم ہائی وے ری الائنمنٹ فیزٹو کی حتمی فزیبلٹی سٹڈی کی یادداشت پر دستخط کیئے۔

علاوہ ازیں دونوں ممالک نے انڈسٹریل ورکر ایکسچینج پروگرام اور ایم ایل ون منصوبے پر 21 ویں کانفرنس کی تکنیکی کمیٹی کے منٹس پر بھی دستخط کیئے۔

اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے چینی وفد کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے 10 سال مکمل ہونے پر چین کے اعلیٰ سطح کے وفد کے دورہ پاکستان پر وہ چین کی قیادت کے شکر گزار ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج سے 10 برس قبل اس وقت کے وزیراعظم محمد نوازشریف اور چین کے صدر شی جن پنگ نے سی پیک پر دستخط کئے تھے تو معاہدے پر دستخطوں کی سیاہی خشک ہونے سے پہلے ہی عمل درآمد شروع ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک کے تحت پاکستان میں بجلی، سڑکوں کے ڈھانچہ، پن بجلی اور پبلک ٹرانسپورٹ سمیت مختلف شعبوں میں 25 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ آج معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخطوں کے بعد ہم سی پیک کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں جس سے دونوں ممالک کے درمیان نئے ماڈل کے تحت اقتصادی تعاون کومزید فروغ حاصل ہو گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں بزنس ٹو بزنس حکمت عملی کے تحت زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ جات میں سرمایہ کاری کی جائے گی۔ پاکستان چین کی معاونت سے چینی معیار کے مطابق برآمدات کو یقینی بنائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ چین کے صدر شی جن پنگ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے پاکستان کے ساتھ عوامی رابطوں کے فروغ کے لئے نائب وزیراعظم کو خصوصی ایلچی کے طور پر پاکستان بھیجا ہے۔ چینی صدر نے دنیا کو دکھایا ہے کہ پاکستان اور چین دوستی کے بےمثال رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ چین اور پاکستان صدا بہار دوست اور آہنی بھائی ہیں۔ پاک چین دوستی برقرار رہے گی اور اس میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے حوالے سے صدر شی جن پنگ کے نظریئے اور تصورات کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل ون اور کراچی سرکلر ریلوے اہم منصوبے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ یہ منصوبے کامیابی سے مکمل ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ قربانی سخت محنت اور کوششوں سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہونا چین اور چین کے صدر شی جن پنگ کا ماڈل ہے۔ ہم بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے وژن کے مطابق ملک میں ترقی اورخوشحالی لانے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔

اس موقع پر وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگ زیب، وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال ، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ ، وزیر تجارت سید نوید قمر، وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، وزیرمملکت حنا ربانی کھر، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام کے علاوہ چینی وفد کے اراکین بھی شامل تھے۔ بعد ازاں وزیراعظم نے چینی وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین