پیر, مئی 27, 2024
spot_img
ہومپاکستاناسلام آباد: بلوچ طلباء ملک میں محفوظ نہیں، جواد اور زید سمیت...

اسلام آباد: بلوچ طلباء ملک میں محفوظ نہیں، جواد اور زید سمیت تمام بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں کے خلاف تحریک کا آغاز کرینگے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد کے ترجمان نے کہا کہ آج علی الصبح سات بجے کے وقت ریاستی خفیہ اداروں اور سیکورٹی فورسسز کے اہلکاروں نے بارہ کہو اسلام آباد کے دو مختلف مقامات سے دو بلوچ طالب علم جواد ولد اقبال اور زید ولد عبدل رسول کو جبری طور گمشدہ کردیا ہے۔ واضح رہے جواد اقبال قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبہ الیکٹرانکس میں بی ایس پانچویں سیمسٹر کا طالب علم ہے، اور زید ولد عبدل رسول نے حال ہی میں آربٹ کالج بارہ کہو سے انٹرمیڈیٹ پاس کیا ہے، اور قائد اعظم یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنے ایڈمیشن فارم جمع کیے ہیں۔

ترجمان نے کہا ہے کہ اس وقت بلوچ اسٹوڈنٹس شدید ریاستی جبر کا سامنا کررہے ہیں۔ اسلام آباد سے لیکر ڈیرہ بگٹی تک بلوچ طالب علم محفوظ نہیں ہیں۔ صرف حالیہ جولائی کے مہینے میں مکران، کراچی، ڈیرہ غازی خان، شال، آوران، ڈیرہ بگٹی، مشکے اور اسلام آباد سے درجنوں بلوچوں کو جبری طور گمشدہ کیا گیا ہے۔ جبکہ پنجاب اور وفاق کے تعلیمی اداروں میں عرصہ دراز سے بلوچ طلبہ کا گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے، یہاں کے تعلیمی اداروں میں ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بلوچ طلبہ کی پروفائلنگ کی جاتی ہے، یہاں طلبہ کو مسلسل دھمکی آمیز فون کال موصل ہوتی ہیں، طلبہ کو مسلسل زہنی طور پر ہراساں کرنے کے لیے طلبہ کے لواحقین کو فون کرکے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں بلوچ طلبہ پر منصوبہ بندی کے تحت تشدد کرایا جاتا ہے اور آج صبح دو بلوچ طالب علموں کی جبری گمشدگی اسی ریاستی جبر کا تسلسل ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ ہم گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل سپریم کورٹ، ہائی کورٹ، وفاقی کمیشن، میڈیا اور پریس کلبوں کے سامنے وفاق، پنجاب اور بلوچستان میں بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگی، پروفائلنگ، ہراسمنٹ اور تشدد پر چیخ چیخ کر اپنے موقف پیش کررہے ہیں، اور اپنے خدشات کا اظہار کررہے ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ سے لیکر میڈیا تک سب اس سنگین مسئلے پر دانستہ طور پر ہمارے جائز خدشات کو نظر انداز کرکے ریاستی ظلم و بربریت کا خاموشی سے حمایت کررہے ہیں۔ جس کی واضح مثال آج صبح اسلام آباد سے دو بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگی ہے۔ اگر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو بلوچ طلبہ پر ہونے والے ریاستی مظالم کا زرہ برابر بھی احساس ہوتا اور گزشتہ چار سالوں میں دائر کردہ پٹیشنز اور درجنوں رونما والے واقعات کا نوٹس لیتے تو آج اسلام آباد سے دو اور بلوچ طالب علم سپریم کورٹ کے آنکھ کے نیچے سے جبری طور پر گمشدہ نہ ہوتے۔

ترجمان نے آخر میں کہا کہ اسلام آباد میں اس سے قبل ایرڈ یونیورسٹی کا طالب علم فیروز بلوچ کو جبری طور گمشدہ کیا گیا تھا، جو تاحال لاپتہ ہے جبکہ آج مزید دو بلوچ طالب علم جواد ولد اقبال اور زید ولد عبدل رسول کو بھی جبری طور گمشدہ کیا گیا ہے۔ ہم اس امر کو واضح کرتے ہیں کہ ہم اپنے ساتھی طلبہ کی جبری گمشدگیوں پر کسی بھی صورت خاموش نہیں بیٹھیں گے اور بہت جلد اس واقع کے خلاف اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ جبکہ ہم تمام سیاسی اور انسانی حقوق کے جماعتوں اور خاص طور پر بلوچ طلباء تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ جواد، زید، سالم بلوچ سمیت دیگر تمام بلوچ طلبہ کے جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھائیں اور اس بربریت کے خلاف جدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں۔اسلام آباد سے لیکر ڈیرہ بگٹی تک بلوچ طلباء محفوظ نہیں ہیں۔
جواد اور زید بلوچ سمیت تمام بلوچ طلباء کی جبری گمشدگیوں کے خلاف تحریک کا آغاز کرینگے۔

متعلقہ مضامین

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں

تازہ ترین